"تبوک" کا نام قدیم ہے اور نبوی بعثت سے کئی صدیاں پہلے سے رائج تھا۔ تاہم جب اس لفظ کے دقیق مآخذ اور معنی کی بات آتی ہے تو مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔

لفظ "بوک" کے مادّے سے اشتقاق

قدیم عرب ماہرینِ لغت میں سے کئی، جن میں امام ازہری بھی شامل ہیں، اس بات کے قائل ہیں کہ لفظ "تبوک" کا تعلق مادّہ "البَوْک" سے ہے، جس کا مطلب حرکت اور اضطراب ہے۔

عین تبوک اور نبوی روایت

سیرت اور حدیث کی کتابوں میں "عین تبوک" کا ذکر ملتا ہے، یہ وہی چشمہ ہے جہاں نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کے ساتھ 9 ہجری میں غزوہ تبوک کے دوران فروکش ہوئے تھے۔

لاطینی اصل (Tabu) کا مفروضہ

کچھ جدید سیاحتی مآخذ میں یہ مفروضہ بھی گردش کرتا ہے کہ یہ نام لاطینی لفظ "Tabu" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب "الگ تھلگ جگہ" ہے، مگر اس کی بنیاد اتنی مضبوط نہیں۔

خلاصہ: علمی اعتبار سے سب سے زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ تبوک کا نام ایک قدیم عربی مادّے سے جڑا ہے جس کا تعلق پانی کی حرکت اور اس چشمے سے ہے۔