آج کل مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے چند سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیشگی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے، کیونکہ "نُسُک" پلیٹ فارم (umrah.nusuk.sa اور اس کی موبائل ایپ) اب عمرہ پرمٹس اور روضۂ رسول کی زیارت کے وقت مقرر کرنے کا واحد سرکاری ذریعہ بن چکا ہے۔ پرمٹ حاصل کرنا اب اختیاری نہیں رہا بلکہ مسجد الحرام میں داخلے اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے لازمی شرط ہے، اس لیے سفر سے پہلے اس عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔

نُسُک پر رجسٹریشن کے لیے ذاتی ای میل کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں (ہر معتمر کے لیے الگ ای میل)، پھر ای میل اور موبائل پر آنے والے کوڈ سے تصدیق کریں۔ اس کے بعد "پرمٹس" کے سیکشن سے اپنا عمرہ سلاٹ بک کریں اور QR کوڈ اپنے فون میں محفوظ رکھیں۔ منظوری میں عام طور پر 3 سے 7 کاروباری دن لگتے ہیں، لیکن رمضان جیسے مصروف اوقات میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اس لیے سفر سے کم از کم تین سے چار ہفتے پہلے درخواست دینا محفوظ رہتا ہے۔ ایک اہم اصول یاد رکھیں: "بکنگ کے بغیر ویزا نہیں" — یعنی جب تک نُسُک پر ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی تصدیق شدہ بکنگ موجود نہ ہو، ویزا جاری نہیں ہوتا۔ یہ اصول ان تقریباً 66 اہل ممالک کے سعودی سیاحتی ای ویزا رکھنے والوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو الگ عمرہ ویزے کے بغیر اپنے سفر کے دوران عمرہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ویزے کی مدت اور شرائط وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے روانگی سے پہلے تازہ ترین تفصیلات براہِ راست نُسُک یا اپنے ویزا فراہم کنندہ سے تصدیق کر لینا بہتر ہے۔

جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ایئرپورٹ سے مکہ تک کا فاصلہ تقریباً 85-95 کلومیٹر ہے، اور بجٹ و وقت کے مطابق کئی ذرائع دستیاب ہیں۔ حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین یہ سفر تقریباً 30-45 منٹ میں طے کرتی ہے، کرایہ کلاس کے حساب سے 60 سے 120 ریال کے درمیان ہے، مگر مکہ اسٹیشن (الرصیفہ کے علاقے میں) حرم سے تقریباً 3.5 کلومیٹر دور ہے، اس لیے وہاں سے ٹیکسی یا شٹل لینی پڑتی ہے جس میں مزید 15-20 منٹ اور 25-40 ریال خرچ ہوتے ہیں۔ ایئرپورٹ سے براہِ راست ہوٹل تک ٹیکسی یا لیموزین میں عام طور پر ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے اور کرایہ 180 سے 350 ریال کے درمیان ہوتا ہے — خاندان کے ساتھ سفر کرنے والوں یا زیادہ سامان رکھنے والوں کے لیے یہ بہترین آپشن ہے۔ اوبر اور کریم جیسی رائیڈ ہیلنگ ایپس کا کرایہ تقریباً 100-300 ریال ہے۔ بسیں (جیسے سابٹکو) سب سے سستی ہیں، 40 ریال سے کم، لیکن یہ مکہ کے مرکزی بس اسٹیشن پر اتارتی ہیں جہاں سے ہوٹل تک مزید ٹیکسی درکار ہوتی ہے۔

رہائش کے انتخاب میں زیادہ تر ہوٹلز کو حرم سے فاصلے کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اجیاد اور ابراہیم الخلیل روڈ کا علاقہ سب سے قریب ہے، کعبہ سے تقریباً 500 میٹر سے 1 کلومیٹر — یعنی حرم کے دروازوں سے 5-12 منٹ پیدل — جو بزرگ افراد یا نمازوں کے درمیان آسان رسائی چاہنے والوں کے لیے موزوں ہے، البتہ یہ سب سے مہنگا اور مصروف اوقات میں سب سے زیادہ ہجوم والا علاقہ بھی ہے۔ کم قیمت کی تلاش میں رہنے والے العزیزیہ جیسے دور دراز علاقوں کا رخ کر سکتے ہیں، جو حرم سے تقریباً 8 کلومیٹر دور ہے اور وہاں پہنچنے کے لیے شٹل بس یا ٹیکسی درکار ہوتی ہے، لیکن یہاں رہائش پرسکون، مقامی کھانوں کے متنوع اختیارات اور نمایاں طور پر کم قیمتیں ملتی ہیں۔ عام اصول یہی ہے: جتنا حرم کے قریب رہیں گے، قیمت اتنی زیادہ اور آمدورفت کی ضرورت کم ہوگی؛ جتنا دور رہیں گے، لاگت کم مگر وقت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات زیادہ ہوں گے۔

سفر کے وقت کے لحاظ سے، اکتوبر سے مارچ تک کا عرصہ موسم کے اعتبار سے سب سے آرام دہ ہے، جہاں مکہ میں اوسط درجہ حرارت تقریباً 31 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے، جبکہ مئی سے ستمبر تک شدید گرمی پڑتی ہے جو عروج پر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتی ہے — یہی مہینے سب سے کم ہجوم والے مگر جسمانی طور پر مشکل ترین ہوتے ہیں۔ نسبتاً معتدل موسم اور ہلکے ہجوم کی تلاش میں رہنے والوں کے لیے حج کے فوراً بعد کا عرصہ (محرم اور صفر کے مہینے) نیز ستمبر بہترین وقت ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ معتمرین کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور حرم کے اندر انتظار کا وقت گھٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس نومبر اور دسمبر میں موسم اچھا ہونے کے باوجود ہوٹلوں کی مانگ اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اس لیے ان مہینوں کا ارادہ رکھنے والوں کو بہت پہلے بکنگ کروا لینی چاہیے۔

خلاصہ یہ کہ مکہ مکرمہ کے پرسکون اور منظم سفر کی بنیاد تین چیزوں پر ہے: سفر سے کافی پہلے نُسُک پرمٹ کے ساتھ ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی تصدیق شدہ بکنگ، اپنے بجٹ اور سامان کے مطابق ایئرپورٹ ٹرانسفر کا انتخاب، اور حرم سے قربت و لاگت کے درمیان توازن رکھنے والے رہائشی علاقے کا چناؤ — ساتھ ہی ممکنہ حد تک شدید گرمی یا بھاری ہجوم سے بچنے کے لیے سفر کا وقت مناسب رکھنا۔