یہ زمین کا وہ مقام ہے جس کی طرف ڈیڑھ ارب مسلمان رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں: مسجدِ حرام — کعبۃ اللہ کے گرد طواف کبھی نہیں رکتا، اور یہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے (صحیح حدیث)۔

زیارت کے مسنون آداب

  • طواف: حجرِ اسود سے آغاز، سات چکر — استلام ممکن نہ ہو تو دور سے اشارہ کافی ہے، دھکم پیل سنت نہیں۔
  • ملتزم اور مقامِ ابراہیم: طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت — جگہ نہ ملے تو حرم میں کہیں بھی۔
  • سعی: صفا سے آغاز، سات پھیرے — سبز نشانوں کے درمیان مردوں کے لیے ہلکی دوڑ مسنون۔
  • آبِ زمزم: کھڑے ہو کر، بسم اللہ سے، تین سانس میں پینا مسنون — دعا قبول ہوتی ہے۔

عملی مشورے

  • رش کم ترین: رات 11 بجے سے فجر تک — طواف کے لیے بہترین وقت۔
  • مطاف تک رسائی عمرہ کرنے والوں کی ترجیح ہے؛ نفلی طواف اوپر کی منزلوں سے بھی مکمل ہے۔
  • اپنے جوتوں کے لیے تھیلا ساتھ رکھیں اور اپنے دروازے کا نمبر یاد رکھیں — حرم کے 100 سے زائد دروازے ہیں۔