حائل کے نام کی کہانی ان مثالوں میں سے ایک ہے جہاں مؤرخین عمومی خاکے پر تو متفق ہیں مگر تفصیلات میں اختلاف رکھتے ہیں۔
سب سے مشہور روایت: وادی کا نام
"حائل" اصل میں شہر کا نام نہیں بلکہ اس وادی کا نام تھا جو اس کے قریب سے گزرتی ہے، جسے آج "وادی الادرع" کہا جاتا ہے۔ مآخذ کے مطابق جو بستی وہاں قائم ہوئی اسے ابتداء میں "القریہ" یا "قریۃ حائل" کے نام سے جانا جاتا تھا۔
جہاں تک خود وادی کے "حائل" نام رکھے جانے کی وجہ کا تعلق ہے، تو مقامی مؤرخین میں سب سے زیادہ رائج تشریح اسے فعل "حال یحول" سے جوڑتی ہے، یعنی جدا کرنا اور روکنا: جب وادی میں بارش کا پانی بہتا تو یہ "حائل" بن جاتی، یعنی راستہ کاٹ دیتی اور جبل اجا اور جبل سلمیٰ کے باشندوں کے درمیان حائل ہو جاتی۔
دیگر رائج تشریحات
- ایک اور تشریح نام کو حائل کے تزویراتی محلِ وقوع سے جوڑتی ہے، جس کی بنا پر اسے بعض اوقات "صحرا کی کنجی" بھی کہا جاتا ہے۔
- ایک اور زیادہ علامتی عوامی روایت اس نام کی توجیہ یوں کرتی ہے کہ حائل "کبھی کسی اجنبی حکمران کو جنم نہیں دیتی"۔
منہجی نکتہ
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں مقامات کے ناموں کا اشتقاق اکثر قدیم تحریری دستاویزات کی بجائے زبانی روایت اور مقامی ورثے پر مبنی ہوتا ہے، اور حائل بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔