باش چارشیا پندرہویں صدی کا عثمانی بازار ہے اور آج بھی سراییوو کا دھڑکتا دل: لکڑی کا سبیل چشمہ (شہر کی علامت — روایت ہے جس نے اس کا پانی پیا وہ لوٹ کر آتا ہے)، تانبے کی گلی (کازانجیلوک) میں ہتھوڑیوں کی صدیوں پرانی تال، قہوہ خانوں میں بوسنیائی قہوے کی مہک اور گرل سے اٹھتی چیوابی (کباب) کی خوشبو۔ کبوتروں سے بھرا چوک، مسجدیں اور مدرسے — یورپ کے قلب میں مسلمان شہر کی زندہ روح۔

مشورے

  • چیوابی «زلیکو» یا پرانی مشہور دکانوں سے کھائیں اور ساتھ بوسنیائی قہوہ روایتی تانبے کے سیٹ میں پئیں — سب حلال، سب اصل۔
  • تانبے کی گلی سے ہاتھ کا بنا قہوہ سیٹ سوغات لیں — کاریگر آپ کے سامنے نقش ڈالتا ہے۔