ملیاتسکا دریا پر یہ چھوٹا عثمانی پل دنیا کی تاریخ کا سب سے بھاری کونا ہے: 28 جون 1914 کو اس کے سرے پر گاورِیلو پرنسپ نے آسٹریا کے ولی عہد فرانز فرڈیننڈ پر گولی چلائی — اور پہلی جنگِ عظیم کے شعلے بھڑک اٹھے جس نے چار سلطنتیں نگلیں۔ نکڑ کا چھوٹا میوزیم اس لمحے کی کہانی سناتا ہے۔ پل خود سولہویں صدی کا خوبصورت پتھر ہے — شام کے وقت دریا کنارے واک میں اسے دیکھنا سراییوو کے معمول کا حصہ ہے۔
مشورے
- میوزیم چھوٹا مگر گھنا ہے — آدھا گھنٹہ کافی، کہانی پوری مل جاتی ہے۔
- پل کے پار «انات کچہ» کے پرانے محلے کی چڑھتی گلیاں فوٹوجینک اور پرسکون ہیں۔
💬 تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — اپنا تجربہ شیئر کرنے والے پہلے شخص بنیں!