قومی تھیٹر (TNA)
1853 کا اوپرا ہاؤس: سرخ و سنہری ہال اور بحری چوک کی شان۔
1853 کا اوپرا ہاؤس: سرخ و سنہری ہال اور بحری چوک کی شان۔
کنکریٹ کا جرات مند 1960s کیتھیڈرل — جدید طرز کا مشاہدہ وسط شہر میں۔
اٹلس کا برفیلا راز: دیودار جنگل، کیبل کار اور — جی ہاں — الجزائر میں اسکیئنگ۔
ساحلی تفریحی پٹی: ریت، صنوبر اور ریزورٹ — الجزائر والوں کی ویک اینڈ سانس۔
جزیرہ نما تفریحی بندرگاہ: مرینا، تھیٹر اور غروب — تاریخ کا اترنے کا مقام۔
مورش حویلی میں قبل از تاریخ کا خزانہ: صحن، زلیج اور صحرا کی قدیم داستان۔
سمندر کنارے رومی شہر: نیلے پانی میں اترتے کھنڈر — البیر کامو کی محبت۔
سمندر پر اترتے عثمانی محل: قصبے کا آخری ساحلی ٹکڑا — نقش، صحن اور موجیں۔
قصبے کی دہلیز پر تاریخ کا پہیہ: مسجد → کیتھیڈرل → پھر مسجد — 1612 سے کھڑی۔
نو-مورش شاہکار 1910: سفید محرابیں اور شہر کا صفر نقطہ — الجزائر کی پہچان۔
چٹان پر کھڑا 1872 کا کیتھیڈرل: خلیج الجزائر کا وسیع نظارہ — فن اور تاریخ کا مشاہدہ۔
دنیا کا تیسرا بڑا مسجد کمپلیکس: 265 میٹر مینار — افریقہ کی بلند ترین عمارت۔
92 میٹر بلند شہادت کی یادگار: تین کھجور پتے آسمان میں — آزادی کے شہیدوں کا مینار۔
یونیسکو ورثہ پہاڑی بستی: عثمانی محل، ڈھلوان گلیاں اور مزاحمت کی داستان۔