سورخانی میں یہ قلعہ نما احاطہ صدیوں تک زرتشتی اور ہندو آتش پرستوں کی عبادت گاہ رہا — زمین سے رستی قدرتی گیس کے ازخود جلتے شعلوں پر بنا۔ مرکزی چبوترے کے چار ستونوں میں شعلہ آج بھی جلتا ہے (اب پائپ سے)، گرد حجروں میں ہندوستان سے آئے تاجروں اور سادھوؤں کی زندگی کے مناظر سجے ہیں — دیواروں پر سنسکرت و گرومکھی کتبے برصغیر سے پرانے رشتے کی گواہی ہیں۔ مسلمان سیاح کے لیے یہ تاریخ و عبرت کا مقام ہے: اللہ کے سوا ہر معبود کی بے بسی کی خاموش نشانی۔
مشورے
- یانار داغ کے ساتھ ملا کر آدھا دن بنائیں — دونوں «سرزمینِ آتش» کی کہانی کے دو باب ہیں۔
- کتبوں پر برصغیر کے شہروں کے نام تلاش کریں — ملتان اور سندھ کے تاجروں کے نشان ملتے ہیں۔
💬 تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — اپنا تجربہ شیئر کرنے والے پہلے شخص بنیں!