ریاض دو تقریباً متضاد خریداری کے تجربات پیش کرتا ہے: چمکدار مالز جو اب فی کس پرتعیش ریٹیل کے رقبے میں دبئی کا مقابلہ کرتے ہیں، اور صدی پرانی گلی کوچوں کی منڈیاں جو اب بھی پرانے شہر کے مرکز میں زندگی سے بھرپور ہیں۔
پرتعیش مالز
کنگڈم سینٹر، ریاض کی سب سے نمایاں عمارتوں میں سے ایک، ایک پرتعیش مال ہے جس میں 150 سے زائد دکانیں ہیں، بشمول عالمی برانڈز جیسے لوئی ووتاں، گچی اور زارا، اس کے علاوہ اوپری منزل پر خواتین کے لیے مخصوص شاپنگ فلور بھی موجود ہے۔ ریاض کے مالز اب صرف خریداری کی جگہیں نہیں رہے — بہت سے مالز اب سینما، فائن ڈائننگ اور یہاں تک کہ اندرونی تفریحی پارکس کے ساتھ مکمل دن کی تفریحی منزلیں بن چکے ہیں، جو گرمیوں کی شدید حدت میں باہر گھومنا مشکل ہونے پر ایک قدرتی پناہ گاہ ہیں۔
تاریخی سوق الزل
1901 سے تعلق رکھنے والی سوق الزل، الثمیری روڈ پر تقریباً 9.5 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور ریاض کی سب سے مشہور روایتی منڈی ہے۔ اس کا نام خلیجی عربی لفظ "زلیہ" سے آیا ہے جس کا مطلب فرش کا قالین ہے، اور ہاتھ سے بُنے قالین اب بھی سب سے نمایاں چیز ہیں۔ یہ منڈی الدیرہ ضلع میں واقع ہے، جو شہر کا تاریخی مرکز ہے اور مسمک قلعے کے بالکل قریب ہے۔ یہاں آپ کو ہاتھ سے بنے قالین، قدیم خنجر، وزن کے حساب سے بکنے والا سونا، اور آرڈر پر تیار کیا جانے والا عود کا تیل ملے گا۔
خریداری کے مشورے
مالز میں قیمتیں مقرر ہوتی ہیں، لیکن روایتی منڈیوں میں بھاؤ تاؤ متوقع بلکہ خوش آئند ہے، اور صبر اور دوستانہ انداز میں بات چیت کرنے سے قیمتیں ابتدائی مطالبے سے 20 سے 40 فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ سوق الزل جانے کا بہترین وقت صبح سویرے یا عصر کی نماز کے فوراً بعد ہے، تاکہ ہجوم اور دوپہر کی گرمی سے بچا جا سکے۔ ایک اصل اور آسانی سے لے جانے والے تحفے کے لیے، ایک چھوٹا نجدی قالین یا روایتی عربی کافی سیٹ (دلہ برتن اور پیالیاں) اچھے انتخاب ہیں۔ کچھ نیا اور زیادہ اعلیٰ درجے کا تجربہ چاہیں تو الملقا اور الیاسمین میں "بولیوارڈ" اور "جیکس" دیکھیں، جہاں جدید خریداری کو ریستورانوں اور شامی تقریبات کے ساتھ ملایا گیا ہے۔
💬 تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — اپنا تجربہ شیئر کرنے والے پہلے شخص بنیں!